ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گوامیں قبائلی کمیونٹی کے لوگوں نے دہلی کے وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل سے آگا ہ کرایا

گوامیں قبائلی کمیونٹی کے لوگوں نے دہلی کے وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل سے آگا ہ کرایا

Mon, 22 Aug 2016 18:13:02    S.O. News Service

کجریوال نے ’’سرکاربننے پر‘‘مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی 
پنجی، 22؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عا م آدمی پارٹی کے کنوینراوردہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال کے جنوبی گواکے کورم گاؤں کے دورے کے دوران سال2011میں یہاں ہوئی قبائلی تحریک کی یا د یں تازہ ہوگئیں۔اس تحریک کے دوران2 نوجوان کارکنوں کی موت ہو گئی تھی۔ نوجوان قبائلی کارکن رویندر ویلپ نے کل کیجریوال کو بتایاکہ دو نوجوانوں کو صرف اس وجہ سے جلا کرمارڈالاگیاکیونکہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک چلا رہے تھے۔ان کے قتل کے لیے آج تک ایک بھی شخص کوسزانہیں دی گئی ہے۔منگیش گاونکر اور دلیپ ویلپ اس قبائلی گروپ کاحصہ تھے جس نے اپنے 12نکاتی مطالبات کولے کرقومی شاہراہ پررکاوٹ کھڑاکیاتھا۔2011میں اس تحریک کے پرتشددہوجانے پر قبائلیوں کی پہل، آدرش کوآپریٹوسماج کی عمارت کوآگ لگا دی گئی تھی جس میں دونوں نوجوانوں کی جلنے کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔ویلپ نے بتایا کہ ریاست کے وزیرِزراعت رمیش تواڈکر بھی اس گروپ کا حصہ تھے۔اس گروپ کو مقامی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان لوگوں نے قبائلیوں پرحملہ کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی،مجرموں کو کبھی گرفتار کیا ہی نہیں گیا۔کیجریوال نے قبائلیوں سے وابستہ مسائل کو غو ر سے سنا اور کہاکہ اگر یقین دہانی کرائی کہ اگر آپ اقتدار میں آتی ہے تو اس واقعہ میں ملوث تمام لوگوں کوسزادی جائے گی۔یہاں کے کویپیم میونسپل ہال میں کل کیجریوال نے دو گھنٹے تک کمیونٹی کے لوگوں کے مسائل سنے ۔اس کے بعد وہ کویرم روانہ ہو گئے۔یہی وہ گاؤں ہے جہاں کان کنی کی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف پہلی بار قبائلیوں نے مظاہرہ شروع کیا تھا۔قبائلیوں سے وابستہ مسائل کو اٹھانے والے ایک اور لیڈر نیلیش نائک پر بھی 2011میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا تھا۔نائک کہتے ہیں کہ گوا کے لیے پالیسی بنانے کے دوران قبائلیوں کی باتیں نہیں سنی جاتیں ۔ہماری زمینیں مالدار لوگوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی ہیں۔پولیس نے نائک پر حملہ کرنے والے لوگوں کی بھی ابھی تک شناخت نہیں کی ہے۔ویلپ نے کہاکہ ہر قدم پر قبائلیوں پر ظلم ہوتا ہے۔درج فہرست ذات کمیشن کے پاس اختیار ہے مگر اس پر بھی لیڈروں کا کنٹرول ہے۔کمیشن کے سامنے کئی درجن معاملے زیر التوا ہیں۔گوا کی شرح خواندگی 89فیصد ہے لیکن قبائلیوں کے درمیان یہ 40فیصد سے بھی کم ہے۔


Share: